جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض ۔وہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 496
یہ کیا کہ ہجر کا موسم کرے دراز وہی
جسے ہے ترکِ مراسم پہ اعتراض ۔وہی
جسے فراق کی راتیں گزار لیتی ہیں
وصالِ صبح سے ہوتا ہے سرفراز وہی
میں چھوڑآیاتھا جس کوکسی کے چہرے میں
دکھارہا ہے کوئی چشمِ بدلحاظ وہی
میں جانتا ہوں اب ہارنا ضروری ہے
میں مانتا ہوں کہ ہے جنگ کا محاذوہی
جسے پسندنہیں تھی اداس رت کی غزل
سرھانے رکھتی اب کیوں مری بیاض وہی
وہی خیال کی مسجد وہی حریمِ حرم
مرا وضو وہی ، سجدہ وہی ، نماز وہی
جسے ملی تیرے رخسار و لب کی گیرائی
ہوا خدائی سے منصور بے نیاز وہی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s