جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 528
حرکت ہر ایک شے کی معطل دکھائی دے
جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے
آتے ہوئے منٹ کی طوالت کا کیا کہوں
گزری ہوئی صدی تو مجھے پل دکھائی دے
پلکوں کے ساتھ ساتھ فلک پر کہیں کہیں
مجھ کو کوئی ستارہ مسلسل دکھائی دے
برسات کی پھوار برہنہ کرے تجھے
تیرے بدن پہ ڈھاکہ کی ململ دکھائی دے
پیچھے زمین ٹوٹ کے کھائی میں گر پڑی
آگے تمام راستہ دلدل دکھائی دے
ہجراں کی رات نرم ملائم کچھ اتنی ہے
مجھ کو ترا خیال بھی بوجھل دکھائی دے
برفاب موسموں میں مرے جسم پر تری
بھیڑوں کی گرم اون کاکمبل دکھائی دے
اُس چشم کے اندھیرے میں سورج کی خیر ہو
دیکھوں جہاں تلک مجھے کاجل دکھائی دے
دیکھا ہے رکھ کے اپنی ہتھیلی پہ کتنی بار
وہ پھول ہر طرف سے مکمل دکھائی دے
نقشِ قدم سے پاک جزیرہ کہیں ملے
منصور ان چھوا کوئی جنگل دکھائی دے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s