جان دی خالی شکم کی سربلندی کیلئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 499
زخم دل کی ،چشم نم کی سر بلندی کیلئے
جان دی خالی شکم کی سربلندی کیلئے
جاں ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں تیرے سرفروش
دہر میں تیرے علم کی سر بلندی کیلئے
ہم چلے شہرِ شہادت کی طرف ہنستے ہوئے
روشنی کے ہر قدم کی سربلندی کیلئے
لکھ رہے ہیں روشنی لوحِ افق پر خون سے
ہم ترے علم و قلم کی سربلندی کیلئے
نیل سے اقبال اب بھی تابخاکِ کاشغر
جمع ہیں مسلم ،حرم کی سر بلندی کیلئے
عمر بھر منصور ٹکراتے رہے ہیں کفر سے
تیرے اسمِ محترم کی سر بلندی کیلئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s