جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 51
میں دیو کا قیدی ہوں پری زاد سے کہنا
جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا
ممکن ہے ابابیلوں کے مالک سے ملاقات
اُس ہاتھیوں کے لشکرِ برباد سے کہنا
آنا ذرا خسروسے مگرآنکھ بچا کر
شیریں نے کیا یاد ہے فرہاد سے کہنا
کوہ قاف سے آیا ہے بلاوہ کسی رُت کا
تیار رہے اشہبِ شمشاد سے کہنا
میں بادِ زمانہ کا ازل سے ہوں مخالف
اے بادِ جہاں گیر ،شہِ باد سے کہنا
معلوم ہیں اسرار ہمیں تیرے کرم کے
طیاروں پہ آتی ہوئی امداد سے کہنا
حاکم تری گلیوں میں ہیں ابلیس کے بیٹے
یہ بات مرے ملکِ خداداد سے کہنا
منصور نہیں بھولا میانوالی کی گلیاں
اے باد صبا اُس دلِ ناشاد سے کہنا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s