جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 331
پڑھتا رہا ہوں قیس کا نوحہ فراق میں
جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں
دو موم بتیاں تھیں ، ستارے تھے فرش پر
اک دیکھنے کی چیز تھا کمرہ فراق میں
میں باندھ باندھ دیتا تھا کھونٹے سے اپنا آپ
وحشت کامجھ پہ ایسا تھا غلبہ فراق میں
جس میں بھری ہو نیند سے مری سلگتی آنکھ
دیکھا نہیں ہے میں نے وہ عرصہ فراق میں
شاید مرا لباس تھا وہ دلربا وصال
میں دیکھتا تھا خود کو برہنہ فراق میں
منصوراُس چراغِ بدن سے وصال کا
آسیب بن گیا تھا ارادہ فراق میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s