تُو سرد رہنے دے اپنے بدن کی آنچ ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 479
ابھی پرکھ اسے کچھ دن، ہوا کو جانچ ابھی
تُو سرد رہنے دے اپنے بدن کی آنچ ابھی
او دل کو توڑنے والی ذرا خیال سے چل
چٹخ رہا ہے مری کرچیوں کا کانچ ابھی
جنہیں وسیلہ بناتا ہوں میں یقین کے ساتھ
ہیں مہربان مری ذات پر وہ پانچ ابھی
وہاں سے دور مرے زاویے کی اونچائی
جہاں نصیب کی جاری ہے کھینچ کھانچ ابھی
سجا کے ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے افسانے
اٹھائے پھرتی ہے تہذیب اپنا خوانچ ابھی
خراب سمت نما نے کنارے چھین لیے
بھٹک رہی ہے سمندر میں اپنی لانچ ابھی
مرے غزال یہ منظر سمیٹ لینے دے
نہ بھر زقند ابھی تُو، نہ بھر قلانچ ابھی
بڑے سکون سے بستی میں لوگ رہتے تھے
کھلی نہیں تھی کسی بنک کی برانچ ابھی
نئی غزل کا زمانہ ابھی نہیں آیا
ڈھا رہے ہیں پرانی غزل کا ڈھانچ ابھی
کسی کا وصل مکمل نہ کر سکا منصور
ادھوری ہے مرے جلتے بدن کی سانچ ابھی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s