تُو خالی ہاتھ مجھے بھیج… اور در نہ دکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 101
مرے نصیب پہ رو دے، کسی کا گھر نہ دکھا
تُو خالی ہاتھ مجھے بھیج… اور در نہ دکھا
تُو اپنی شام کے بارے کلام کر مجھ سے
کسی کے بام پہ ابھری ہوئی سحر نہ دکھا
ابھی تو وصل کی منزل خیال میں بھی نہیں
شبِ فراق! ابھی سے یہ چشمِ تر نہ دکھا
گزار آیا ہوں صحرا ہزار پت جھڑ کے
فریبِ وقت! مجھے شاخِ بے ثمر نہ دکھا
میں جانتا ہوں قیامت ہے بیچ میں منصور
مجھے یہ راہ میں پھیلے ہوئے خطر نہ دکھا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s