تو ورد کرنے لگے لہو میں نزول زندہ کتاب والے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 555
نماز لمحوں میں آئے مجھ کو خیال عالی جناب والے
تو ورد کرنے لگے لہو میں نزول زندہ کتاب والے
خدا بھی محشر میں منتظر ہے اسی کی پلکوں کی جنبشوں کا
وہ جس کی رحمت کو دیکھتے ہیں تمام عیب و صواب والے
لبوں پہ مہکیں دلوں میں چہکیں جو قرآئتوں کی ہرے پرندے
دھنک دھنک رنگ سرسرائیں نظرنظر میں گلاب والے
جنابِ غالب یہ کہہ گئے ہیں بہت مسائل سہی جہاں کے
بہت ہیں کوثر کی نہر والے بہت ہیں حوضِ شراب والے
مرے مکاں میں کھلے ہوئے ہیں مری دعامیں ملے ہوئے ہیں
وہ نیکیوں والے سبز پتے وہ پھول باغِ ثواب والے
مری نظر کو سویردے بس حسیں تبسم بکھیرے دے بس
نئے زمانوں کے خواب والے نئی بہاروں کے باب والے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s