تاریک مکانوں میں جتنی کہیں حیثیت دیوار کے روزن کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 461
تحقیق کہ دنیا میں بس وسعتیں اتنی ہیں ادراک کے دامن کی
تاریک مکانوں میں جتنی کہیں حیثیت دیوار کے روزن کی
میں شکل بناتا ہوں تعمیری رویوں کی کیوں اسکی وساطت سے
صحرائی بگولوں میں جو گھومتی رہتی ہے اک آنکھ توازن کی
سفاک پہاڑوں پراگتی ہوئی بھیڑوں سے جو اون نکلتی ہے
تقویم کے چرخے پرمیں اس سے بناتا ہوں اک شال تمدن کی
پھر ہاتھ میں دل لے کرٹکراتا ہو ں ممکن سے موجود کے کمرے میں
تقدیر کے فرغل سے بس موت دکھائی دے تصویر میں جیون کی
تہذیبِ محمدﷺکی کرتا ہوں نگہبانی اقراء کی علامت سے
منصور جہاں بھی ہے یہ حرف کا سرمایہ میراث ہے مومن کی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s