بے تحاشا فائروں کی سنسناہٹ سے ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 71
خوف پیدا جشن ہائے چودہراہٹ سے ہوا
بے تحاشا فائروں کی سنسناہٹ سے ہوا
شمع کا شعلہ ہوا کی تھرتھراہٹ سے ہوا
اک غضب کی چیز اپنی مسکراہٹ سے ہوا
موسمِ گل کے دھڑکتے موسموں کا سلسلہ
اک دوپٹے کی ذراسی سرسراہٹ سے ہوا
راستے میں رک گئی ہے کیوں یہ چلتی روشنی
میں پریشاں کچھ زیادہ ہچکچاہٹ سے ہوا
اس قدر منصور موسم یخ ہوا ہے روح کا
سرد آتش دان میری کپکپاہٹ سے ہوا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s