بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 264
وہ نیلی روشنی وہ سرائے وہ نرم آگ
بہتی سپردگی بھری ہائے وہ نرم آگ
وہ موسمِ بہار کا ساحل پہ پہلادن
وہ گرم گرم شام کی چائے وہ نرم آگ
وہ تیز دھن وصال کی وہ روشنی کے گیت
وہ چار ناچتے ہوئے سائے وہ نرم آگ
ہرسمت حسنِ لمس کی بہکی ہوئی کشش
عریانیوں کو رقص میں لائے وہ نرم آگ
حسنِ طلب کی آخری حد پہ کھڑی ہوں میں
لاؤ کہیں سے ڈھونڈھ کے مائے وہ نرم آگ
منصور کیا بتاؤں میں خوابوں کی داستاں
بعداز وصال کیسے سلائے وہ نرم آگ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s