بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 219
اپنے بدن کو آگ کامدفن بنائیں ہم
بہتر ہے بجلیوں کو نشیمن بنائیں ہم
کس واسطے سنائیں تباہی کی پھر وعید
سارا دیار کس لئے دشمن بنائیں ہم
بدذات شہر رہنے کے قابل نہیں رہا
ویرانے میں کہیں جا مسکن بنائیں ہم
کالے سمندروں کے زمانے گزر گئے
تاریک سب جزیرے روشن بنائیں ہم
منصور جس کے ساتھ منورہے سارا شہر
اُس خوبرو چراغ کوساجن بنائیں ہم
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s