بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 562
خراب و خستہ و ناکام کو ترے غم نے
بنایا خاص کسی عام کو ترے غم نے
یہ جانتا ہی نہیں ہے فراق کے آداب
لگا دی آگ درو بام کو ترے غم نے
کھلے ہوئے ہیں درختوں کے بال وحشت سے
رلا دیا ہے عجب شام کو ترے غم نے
میں آنسوئوں کے گہر ڈھونڈتا تھا پہلے بھی
بڑھایا اور مرے کام کو ترے غم نے
بنا دیا ہے جہاں بھر میں معتبر کیا کیا
مجھ ایسے شاعرِ بے نام کو ترے غم نے
بدل دیا ہے یقیں کے گمان میں منصور
فروغِ ہجر کے الزام کو ترے غم نے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s