بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 358
وقت ساکت ہے ،جامد یہ حالات ہیں
بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں
میری رائے پہ اے زندگی رحم کر
تیرے بارے میں اچھے خیالات ہیں
دے رہاہے مرا چہرہ سب کے جواب
تیری آنکھوں میں جتنے سوالات ہیں
پاؤں آگے بڑھا ، دار پر وار کر
موت کے کھیل میں ہم ترے ساتھ ہیں
گھاس کھاتے رہو بم بناتے رہو
اپنی باقی ابھی کچھ فتوحات ہیں
تیری زلفوں کی کرنیں تلاوت کریں
تیرے چہرے کی آنکھوں میں آیات ہیں
آتے جاتے ہیں اکثرشبِ تار میں
یہ ستارے تو اپنے مضافات ہیں
غم ہے تنہائی ہے ، ہجر ہے رات ہے
ہم پہ منصور کیا کیا عنایات ہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s