بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 215
وہ غم وہ بے کسی وہ لہو کا سفر وہ شام
بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام
ظالم شکاریوں کے نئے فائروں کی گونج
سہمے ہوئے پرندوں کا وہ مستقر وہ شام
وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام
اس دل میں حوصلہ تو بہت تھا مگر وہ شام
شانوں پہ اک خیال کے گیسو گرے ہوئے
وہ باغِ خامشی وہ عدم کا ثمر وہ شام
رکھے ہیں بام چشم پہ میں نے بھی کچھ چراغ
پھرآ رہی ہے درد پہن کر اگر وہ شام
شانوں پہ پھر فراق کی زلفیں بکھیر کر
افسردہ سی اداس سی آئی ہے گھر وہ شام
گرنی تو تھی افق میں گلابوں کی سرخ شاخ
لیکن گری کہیں بہ طریق دگر وہ شام
مژگاں کی نوک نوک پہ آویختہ کرے
منصور کاٹ کاٹ کے لختِ جگر وہ شام
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s