بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 337
بارش سے سائیکی کے سخن دھو رہا ہوں میں
بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں
دیکھا ہے آج میں نے بڑا دلربا سا خواب
شاید تری نظر سے رہا ہو رہا ہوں میں
اچھے دنوں کی آس میں کتنے برس ہوئے
خوابوں کے آس پاس کہیں سو رہا ہوں میں
میں ہی رہا ہوں صبح کی تحریک کا سبب
ہر دور میں رہینِ ستم گو رہا ہوں میں
لایا ہے کوئی آمدِ دلدار کی نوید
اور بار بار چوم کسی کو رہا ہوں میں
ابھرے ہیں میری آنکھ سے فرہنگِ جاں کے رنگ
تصویر کہہ رہی ہے پکاسو رہا ہوں میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s