ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 338
ڈال دی اس نے محبت کی نئی سم مجھ میں
ایک ہی رابطہ رہنے لگا قائم مجھ میں
اس کی آنکھوں سے مجھے ہوتا ہے کیا کیا معلوم
کون کرتا ہے یہ جذبوں کے تراجم مجھ میں
روح تک جکڑی ہوئی ہے میری زنجیروں میں
کم نہیں ایک تعلق کے مظالم مجھ میں
گھونٹ دیتا ہے گلا روز مرے خوابوں کا
کوئی رہتا ہے خطرناک سا مجرم مجھ میں
بخش کے مجھ کو تہی دامنی دنیا بھر کی
رکھ دیا درد بھرا سینہء حاتم مجھ میں
چھو کے دیکھوں تو مرے ہاتھ پہ رہ جاتی ہیں
اس قدر خواہشیں ہیں نرم و ملائم مجھ میں
جانے کب آتا ہے ہونٹوں پہ کرامت بن کر
کروٹیں لیتا ہے اک نغمہء خاتم مجھ میں
اس کے آنسو مری بخشش کے لیے کافی ہیں
وہ جو بہتا ہے کوئی چشمہء نادم مجھ میں
میں نے چپکائی ہے کاغذ پہ سنہری تتلی
اب بھی پوشیدہ ہے شاید کوئی ظالم مجھ میں
کتنی قبروں پہ کروں فاتحہ خوانی منصور
مر گئے پھر مرے کچھ اور مراسم مجھ میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s