اک پہلوان رِنگ سے باہر پڑا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 63
وہ ہے شکست مان کے پتھر پڑا ہوا
اک پہلوان رِنگ سے باہر پڑا ہوا
آگاہ بھلا ہو کیسے کہ کیا ہے فلک کے پار
وہ جو ہے کائنات کے اندرپڑا ہوا
ڈالی تھی ایک میں نے اچٹتی ہوئی نظر
میرے قریب تھا کوئی منظر پڑا ہوا
آرام کر رہا تھا ابھی تو یہ ریت پر
دریا کہاں گیا ہے برابر پڑا ہوا
یہ بادِ تند و تیز کی آغوشِ گرم میں
خراٹے لے رہا ہے سمندر پڑا ہوا
وہ بھی گلی میں پھرتی ہے بے چین دیر سے
میں بھی ہوں گھر میں بلب جلا کر پڑا ہوا
منصور آسمان سے لے کر پہاڑ تک
کیا کیا اٹھانا پڑتا ہے سر پر پڑا ہوا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s