اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 15
میرا خیال ہے کوئی پردہ اٹھا ہی دوں
اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں
مے خانۂ حیات میں محرم کوئی نہیں
شاید میں کائنات کا پہلا شعور ہوں
سورج کو میری آنکھ بجھا ہی نہ دے کہیں
پروردگارِ دشت ہوں پیغمبرِ جنوں
دن بھر تلاش کرتا ہوں تعبیر کس لیے
ہر رات ایک خواب کے ہوتا ہوں ساتھ کیوں
بستی سے جا رہی ہے پرندوں بھری ٹرام
تُو ساتھ دے اگر تو کہیں میں بھی چل پڑوں
کیوں آنکھ میں سجا کے سمندر کے ولولے
حیرت سے دیکھتا ہوں کسی چاند کا فسوں
کوئی نشانی میری کسی ہاتھ میں تو ہو
منصور کس کو جا کے میں سونے کا رِنگ دوں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s