اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 186
کس بھیانک زندگی کا رنج میرے آس پاس
اک سمندر میں بدلتی ہنج میرے آس پاس
کھوجتا پھرتا ہوں میں اسرار اپنی ذات کے
اور ان گلیوں میں داتا گنج میرے آس پاس
تھے مخالف بس مرے دونوں طرف کے لشکری
کیا عجب کھیلی گئی شطرنج میرے آس پاس
بہہ رہی تھی یاد کی سکرین پر دریا کے ساتھ
ناچتی گاتی ہوئی اک جنج میرے آس پاس
میرے ہونٹوں سے گرے جملے اٹھانے کے لیے
رہ رہے ہیں کتنے بذلہ سنج میرے آس پاس
آئینے کو دیکھ کر رویا تو ازراہِ مذاق
وقت نے پھیلا دیا اسفنج میرے آس پاس
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s