اپنے ہونے کا سبب معلوم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 173
آدمی کے جدو اب معلوم کر
اپنے ہونے کا سبب معلوم کر
پوچھ شجرہ زندگی سے جا کہیں
جاکے مٹی کا نسب معلوم کر
فیصلے یک طرفہ کرنے چھوڑ دے
مجھ سے بھی میری طلب معلوم کر
اپنی پہچانیں کہاں کھوئی گئیں
گم ہوئے کیوں چشم و لب معلوم کر
اور کتنے قوس جلنا ہے ہمیں
اے چراغ دشتِ شب معلوم کر
موت کے منصور شہرِ خوف میں
زندگی کا کوئی ڈھب معلوم کر
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s