اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 35
شہد ٹپکا، ذرا سپاس ملا
اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا
سوکھ جائیں گی اس کی آنکھیں بھی
جا کے دریا میں میری پیاس ملا
خشک پتے مرا قبیلہ ہیں
دل جلوں میں نہ سبز گھاس ملا
آخری حد پہ ہوں ذرا سا اور
بس مرے خوف میں ہراس ملا
آ، مرے راستے معطر کر
آ، ہوا میں تُو اپنی باس ملا
نسخہء دل بنا مگر پہلے
اس میں امید ڈال آس ملا
ہے خداوند کے لیے منصور
سو غزل میں ذرا سپاس ملا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s