آیت الکرسی پڑھی اور دم کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 120
نیند کی ناراضگی کو کم کیا
آیت الکرسی پڑھی اور دم کیا
اس نے شانوں پر بکھیرے اپنے بال
اور شیتل شام کا موسم کیا
پہلے رنگوں کو اتارا اور پھر
اس نے ہیٹر کو ذرا مدہم کیا
ایک آمر کی ہلاکت پر کہو
سرنگوں کیوں ملک کا پرچم کیا
صبح آنسو پونچھ کے ہم سو گئے
روشنی کا رات بھر ماتم کیا
مان لی ہم نے کہانی رات کی
اس نے پلکوں کو ذرا سانم کیا
عاشقی کی داد چاہی شہر سے
ہیٹ اتارا اور سر کو خم کیا
دار پر کھینچا مرے منصور کو
اور سارے شہر کو برہم کیا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s