آنشیبوں میں اتر آ اے فرازوں والے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 556
تیرہ غاروں میں کھڑی ہوتی نمازوں والے
آنشیبوں میں اتر آ اے فرازوں والے
میں تجھے اپنے رگ و پے سے نکل کر دیکھوں
تُو کہا ں ہے ، اے سلگتے ہوئے رازوں والے
کس لئے رکھا ہے مٹی میں تجسس کافسوں
میں تجھے ڈھونڈوں کہاں ،لاکھ جوازوں والے
اے مسافر یہ نگر سنگ نژادوں کا ہے
دل نہیں ہوتے یہاں سوزوں گدازوں والے
ایک آواز بغاوت کی سنائی تو دے
زندہ ہوجائیں گے سب مردہ محاذوں والےٍ
ایسے ممکن کہاں اُس اصل حقیقت سے وصال
سلسلے چھوڑ دے منصورمجازوں والے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s