آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 105
تبصرہ اس کے بدن پر بس یہی کرتا رہا
آسماں تجھ کو بنا کر کافری کرتا رہا
میں ابوجہلوں کی بستی میں اکیلا آدمی
چاہتے تھے جو،وہی پیغمبری کرتا رہا
نیند آجائے کسی صورت مجھے، اس واسطے
میں ، خیالِ یار سے پہلو تہی کرتا رہا
کھول کر رنگوں بھرے سندر پرندوں کے قفس
میں بہشتِ دید کے ملزم بری کرتا رہا
جانتا تھا باغِ حیرت کے وہی ساتوں سوال
اک سفر تھا میں جسے بس ملتوی کرتا رہا
تھی ذرا سی روشنی سواحتیاطً بار بار
پوٹلی میں بند پھر میں پوٹلی کرتا رہا
سارادن اپنے کبوتر ہی اڑاکردل جلا
آسماں کا رنگ کچھ کچھ کاسنی کرتا رہا
دیدہ ء گرداب سے پہچان کر بحری جہاز
اک سمندرگفتگو کچھ ان کہی کرتا رہا
دشت میں موجودگی کے آخری ذرے تلک
ریت کا ٹیلاہوا سے دوستی کرتا رہا
رات کی آغوش میں گرتے رہے ، بجھتے رہے
میں کئی روشن دنوں کی پیروی کرتا رہا
اپنی ہٹ دھرمی پہ خوش ہوں اپنی ضد پر مطمئن
جو مجھے کرنا نہیں تھا میں وہی کرتا رہا
میں کہ پانچوں کا ملازم میں کہ چاروں کا غلام
حسبِ فرمانِ خدا ، وردِ نبیﷺ کرتا رہا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s