منصور آفاق ۔ غزل نمبر 262
شب زندہ دار خواب، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ
کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ
دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی اک نمو
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ
کیسی عجیب چیز ہیں چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ
پہلے پہل تھے میرے اجالے سے منحرف
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ
ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ
صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ
پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ
منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، دیار میں
غالب مثال آدمی، احمد فراز لوگ
منصور آفاق