اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 252
رنگ تھے کچھ نیل پالش کے مری آنکھوں کے بیچ
اور کچھ ٹوٹے ہوئے ناخن بھی تھے زخموں کے بیچ
راکھ کے گرنے کی بھی آواز آتی تھی مجھے
مر رہا تھا آخری سگریٹ مرے ہونٹوں کے بیچ
ہاتھ میں تو لالہ و گل تھے مرے حالات کے
پشت پر کاڑھی ہوئی تھی کھوپڑی سانپوں کے بیچ
کون گزرا ہے نگارِ چشم سے کچھ تو کہو
پھر گئی ہے کون سی شے یاد کی گلیوں کے بیچ
دو ملاقاتوں کے دن تھے آدمی کے پاس بس
اور کُن کا فاصلہ تھا دونوں تاریخوں کے بیچ
گوشت کے جلنے کی بو تھی قریۂ منصور میں
کھال اتری تھی ہرن کی، جسم تھا شعلوں کے بیچ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s