اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 305
گم تھے سرگم لاکھ اس کے چہرہ ء معصوم میں
اور میں بالکل اکیلا تھا ڈرائنگ روم میں
رات کے بستر پہ خالی جسم اپنا پھینک کر
روح پھر رہنے چلی ہے ماضی ء مرحوم میں
ایک فوٹو پر اچانک پڑ گئی میری نظر
اور میں بہتا گیا پھر نغمۂ کلثوم میں
بن رہی ہیں ہر قدم پر رات کا اک دائرہ
اک تھکے سورج کی کرنیں قریۂ معدوم میں
چار بھیڑیں ایک بکری ایک گائے ایک میں
اور رکھوالی کو چرواہی شبِ مخدوم میں
جل پری آگے بڑھی شوقِ وصال انگیز سے
اور میں لوٹ آیا یکدم ساعتِ معلوم میں
دل دھڑکتا جا رہا ہے دیکھئے منصور کا
اک تھکی ہاری غزل کے پیکرِ منظوم میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s