انہیں میں دیکھتا کیا دیدۂ صحابہ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 536
وہ دیکھنے کے نہیں آنکھ کے خرابہ سے
انہیں میں دیکھتا کیا دیدۂ صحابہ سے
تھا چاروں آنکھوں میں حدِ نگاہ تک پانی
نکل کے آیا ہوں ڈوبے ہوئے دوآبہ سے
فرشتو! جاؤ کہ حکمِ طواف آیا ہے
اٹھا لے آؤ وہ کمرہ مقامِ کعبہ سے
وہ جس کا اسم ہے یاھو ، جو میرا باھو ہے
اسی نے مجھ کو ملایا ندیم بھابھہ سے
وہ اور ہیں جنہیں سورج ملا وراثت میں
مجھے تو ورثے میں راتیں ملی ہیں آبا سے
یہ کیسے روح ہوئی ہے ہری بھری منصور
یہ کس نے جا کے کہا ہے دعا کا بابا سے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s