اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 372
ہم واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں
اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں
آنسو تمام شہر نے افلاک کی طرف
دستِ دعا پہ رکھ کے اچھالے ہوئے تو ہیں
اس میں کوئی مکان جلا ہے تو کیا ہوا
دوچار دن گلی میں اجالے ہوئے تو ہیں
یادیں بھی یادگاریں بھی لوٹانے کا ہے حکم
تصویریں اور خطوط سنبھالے ہوئے تو ہیں
سچ کہہ رہی ہے صبح کی زر خیزروشنی
ہم لوگ آسمان کے پالے ہوئے تو ہیں
آخر کبھی تو شامِ ملاقات آئے گی
ڈیرے کسی کے شہر میں ڈالے ہوئے تو ہیں
منصور کب وہاں پہ پہنچتے ہیں کیاکہیں
کچھ برگِ گل ہواکے حوالے ہوئے تو ہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s