اسے بھی چھوڑ دیا شہر کی طرح میں نے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 563
سلوک خود سے کیا دھر کی طرح میں نے
اسے بھی چھوڑ دیا شہر کی طرح میں نے
گزار دی ہے طلب کی سلگتی گلیوں میں
تمام زندگی دوپہر کی طرح میں نے
اُس ایک لفظ سے نیلاہٹیں ابھرآئی
اتار دل میں لیا زہر کی طرح میں نے
بسر کیا ہے جدائی کی تلخ راتوں میں
اسے بھی مرگ نما قہر کی طرح میں نے
وہ بند توڑنے والا تھا ، چشمۂ احساس
بہا دیا ہے کسی نہر کی طرح میں نے
وہ چل رہی تھی سمندرکی ریت پر منصور
جسے سمیٹ لیا لہر کی طرح میں نے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s