اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 352
اوڑھ لیتی ہیں ستاروں کا لبادہ آنکھیں
اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں
کوئی گستاخ اشارہ نہ کوئی شوخ نگہ
اپنے چہرے پہ لیے پھرتا ہوں سادہ آنکھیں
دھوپ کا کرب لیے کوئی افق پر ابھرا
اپنی پلکوں میں سمٹ آئیں کشادہ آنکھیں
ایک دہلیز پہ رکھا ہے ازل سے ماتھا
ایک کھڑکی میں زمانوں سے ستادہ آنکھیں
آنکھ بھر کے تجھے دیکھیں گے کبھی سوچا تھا
اب بدلتی ہی نہیں اپنا ارادہ آنکھیں
شہر کا شہر مجھے دیکھ رہا ہے منصور
کم تماشا ہے بہت اور زیادہ آنکھیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s