ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 334
ابھی تو شاخ سے اپنی، جدا ہوا ہوں میں
ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں
یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں
وصالِ زانوئے جاناں کے انتظار میں رات
خود اپنے ہاتھ پہ سر رکھ کے سو گیا ہوں میں
لہو میں دوڑتی پھرتی ہے لمس کی خوشبو
تیر ے خیال سے شاید گلے ملا ہوں میں
ستم کہ جس کی جدائی میں بجھ رہا ہے بدن
اسی چراغ کی مانگی ہوئی دعا ہوں میں
یہ المیہ نہیں سورج مقابلے پر ہے
یہ المیہ ہے کہ بجھتا ہوا دیا ہوں میں
پڑے ہوئے ہیں زمانوں کے آبلے منصور
بس ایک رات کسی جسم پر چلا ہوں میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s