کہانی ایک پیڑ کی

دیکھ یہ البم ذرا

بیس برس پیشتر، باغ کے اُس پیڑ پر

آئے تھے تجھ کو کبھی اتنے پرندے نظر!

رامشِ صد رنگ کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے

اور تجھے یاد ہے!

کتنے مہ و سال تک

جو نہ فروزاں ہوئے ایسے بُجھے چہچہے

روز کفِ شاخ سے

آ کے اُڑاتی رہی بادِ گماں دُور کی

وہ تھے یہاں حکم کی فرمانروائی کے دن

گنتی رہیں تتلیاں گُل سے جدائی کے دن

نغمہِ بے ساختہ گاتی رہیں ہجرتیں

دینا گواہی ذرا

کتنے برس پیڑ نے دیکھے پرندوں کے خواب

دینا گواہی ذرا

قوس نما آنکھ میں کیسے معلق رہی

ایک جھپٹ خوف کی

اور لبِ برگ سے اُڑتی رہی چار سو

لفظِ مکرّر کی بُو

ہوتی رہی شاخ پر تیرے میرے رُوبرو

ایک ہی سرتال میں جھینگروں کی گفتگو

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s