والیریا کے ساتھ آدھی شام

سینٹ پیٹرز برگ کی اے سرو قد لڑکی!

تیرے انگور ہونٹوں پر

کئی جاگی ہوئی گیلی شبوں کے ڈھیر سے اُٹھتے دھوئیں کی

دُھول ہے

قاف سے اُترے ہوئے پہلے اُجالے کی سنہری کاکلوں کی

چھاؤں میں نیلاب آنکھیں

اور اِن آنکھوں میں سپنے کی خزاں کا آسماں

اُترا ہوا

تیرے ہاتھوں میں ہے می شی ما کی نظموں کی کتاب

تیرے بازو میں کلامی بند’ تیرے پرس میں ویزا’

زرِ وافرکی خواہش جیب میں

کتنے سستے دام میں بیچا گیا ہے

اجنبی ہاتھوں میں اپنی نسلِ رفتہ کے سنہرے خواب کو

ہاں مگر ٹوٹی ہوئی اِن سرحدوں کی دھار سے گرتا لہو

تیرے تعاقب میں رہے گا دیر تک

یوں نہیں’ ایسے نہیں

جانتے ہو! خوف ایسا نجِس ہے’ لگ جائے تو

تبدیل ہو جاتا ہے باطن کھاد میں

اور پھر پورا زمستاں کاٹنا پڑتا ہے تب جا کر کہیں

ادنِیس دوبارہ جنم لیتا ہے اپنی راکھ سے

سب سے پہلے ہم نے پگھلی دھوپ سے

دھو کر نکالا سایہءِابلیس جو بستی پہ تھا

اور بدلا نام اپنے شہر کا

ماں مری اوّل معلم تھی کسی اسکول میں

اپنی راسخ عادتیں ہم کو سکھاتی تھی’

سزا ملتی تھی بائیں ہاتھ سے لکھنے پہ’ ایسی ہی سزاؤں کی فضا میں

مجھ کو اپنی ماں سے نفرت ہو گئی

کس طرح تم دوسری مرضی کے جوئے میں انائیں جوت کر سر سبز رکھ سکتے ہو کشتِ حکم کو

اور کب تک کوئی سن سکتا ہے مریل خواہشوں کی سسکیاں

کیا ہوا گر خاکۂِ تعمیر ہے بدلا ہوا

یہ مگس نر آدمی

شہد کو امرت بنانے میں زیاں کرتا چلا آیا ہے

قصرِ عالیہ کے سود کا

اور بے شک ایک سا، دو مشت کا چھّتہ نہیں ہے زندگی

تا افق پھیلی ہوئی شب میں یہ آتش بازیاں

اور صبحوں کی ہتھیلی پر ذرا سی راکھ کے دھبّے۔۔۔۔

یہی ہے زندگی

اور اسکیٹنگ میں اک پل کے اُچٹتے دھیان میں

پھسلی ہوئی مایر’ گُل صد خواب جیسے برف کی چادر پہ

بکھرا ہو’ یہی ہے زندگی

میں کہ فرحت میں الم بھی ڈھونڈتی ہوں

میں کلیسائی ہوں’ کیا جانوں پرانے قرض کی میعاد

گھٹ سکتی ہے پیسے سے کہ پچھتاوے سے

لیکن اے خدا! لاریب پیسے میں بڑی تسکین ہے

میں کلیسائی ہوں’ آزادی کا حق رکھتی ہوں

باطن اشتمالِ ارض سے باہر کی شے ہے

ارض تو دہلیز ہے

جی کیا تو پاؤں سے جوتے اُتارے اور سیرِ آسماں کو چل دئیے

اور وہ کوئے معیشت بند تھا

بلڈنگیں بے روح تھیں

فیکٹری کے آہنی پھاٹک سے گھر کے آہنی پھاٹک پہ جا کر

ختم ہو جاتی تھیں سڑکیں شہر کی

جن پہ راشن’ وردیاں

انسان شکلوں میں چھپی آنکھوں’ ہدایت کے نوشتوں’

حاجتِ اصلاح کے کتبوں کے بیچوں بیچ

رہتے تھے رواں

مصلحت کے شعبدے کرتے ہوئے

گورکی!

کون تھا یہ گورکی!

ٹالسٹائی تو کتابِ غم کی صرف و نحو کا ماہر تھا’ اب متروک ہے

میرے باطن کی ثقافت میں بلیک اور بودلر

کشفِ علامت سے ملائیں نفس کو آفاق سے

لفظ و معنی اور تمثال و اشارہ بال و پر کھولے ہوئے

اور نیچے آبنائے زندگی پھیلی ہوئی

کون جانے لفظ کے ایجاد گر کا

اس سے آگے بھی کوئی آدرش ہو

اور سچ پوچھو تو سب آدرش مر جاتے ہیں

شاید ٹوٹنا پہچان ہے پہچان

سچے خواب کی

اور سچ پوچھو تو میں اُلجھی’ بہت اُلجھی ہوئی ہوں۔۔۔۔

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s