زندگی جیسی ایک لڑکی

نظر کے بدلتے ہوئے پینترے سے

فنا کر کے

دیتی ہے خیرات بھی پھر سے جینے کی

آدھی شکن کے تبسم سے اک جرعہءِوہم پینے کی

میں اک ستارہ اشارے کے رُخ

اور محراب وعدے کی قبلہ نمائی میں

اس کی طرف منہ کئے

بے نیازی کے معبود کے روبرو ہوں

تمنا کے سو بار ٹوٹے ہوئے تار میں

حرف حرف آیتوں کو پروتے ہوئے

سجدہ جُو ہوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s