یہی وہ دن ہے

یہی وہ دن ہے

کہ آسماں، چاند اور ستارا لئے ہوئے

خود زمیں پہ اترا تھا

شب گزاروں کو پیش کرنے ثمر مقّدر کی روشنی کا

یہی وہ دن ہے

کہ لعل و یاقوت جرأتوں کے

درونِ دل کی تپش سے سّیال ہو کے ٹپکے تھے

اور اِس صفحہ زمیں پر

ہرے ہرے لفظ بن گئے تھے

یہی وہ دن ہے

کہ دشت و میدان و کوہ و وادی

رُکی ہوئی سانس کھل کے لینے لگے تھے

دریاؤں اور جھیلوں میں عکس سرسبز ہو گئے تھے

یہی وہ دن ہے

کہ ہم نے جزدانِ فیصلہ میں

رکھا تھا لکھ کر وفا کا پیمان اِس زمیں سے

چلو کہ اس دن کے فیصلے نے

ہمیں جو نورِ شعور بخشا

ہمیں جو نقدِ ضمیر سونپا

اُسے ہم اپنی وفا کا شاہد بنا کے دیکھیں

کہ ہم امینوں سے یہ زمیں کتنی مطمئن ہے

یہی وہ دن ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s