یک شہرِ زرد رُو

زوال کا معرکہ بپا ہے

یہیں کہیں تسمہءِگلو سے لٹکتے سورج کے

خود و بکتر گرے ہیں

تم دیکھتے نہیں ہو! تمہاری آنکھوں کے صحن میں

مُور خوردہ کرنیں

جگہ جگہ چُور چُور بکھری ہوئی پڑی ہیں

سیاہ چیونٹوں کے لشکری

چاندنی کے ریزے لئے ہوئے جا رہے ہیں اپنے بلوں کی جانب

سنا نہیں! چاک کر رہی ہیں وجود کی نیلگوں تہوں کو

کثافتیں بے ضمیریوں کی

میں اپنے پاؤں کے نیچے اُدھڑی ہوئی زمیں میں

جڑوں کے پنجر سے پوچھتا ہوں

یہ کیا کہ جوہڑ سے اُس نے اب کے نہیں پکارا

سمندروں کو

یہ میرا دست بریدہ کس کے خفیف ڈھانچے کو چُھو رہا ہے

یہ کیسی تحریر چلنے والوں کی گردنوں میں لٹک رہی ہے

یہ نرخنامہ ہے

اوہ، مکتب میں یہ زباں کیوں مجھے پڑھائی

نہیں گئی تھی!

میں کس سے بولوں

کہ سیلِ بازارگر لے گیا ہے سماعتوں کو

اب ایسے انبوہِ لاتعلق سے رابطے کا بھی فائدہ کیا!

ہے شیلف خالی

نہ جنتری ہے نہ خواب نامہ

بتاؤ نا! قال کیا نکالوں

کہ سارے لفظوں نے اپنے معنی بدل لئے ہیں

میں کوئی ہاتف نہیں کہ فردا کا بھید کھولوں

مجھے یہ احساس ہے کہ یوں بھی

مرا سخن معتبر نہیں ہے

میں اپنے سچ کو کہاں پہ تولوں

کہ ساری بستی میں رہ گئی ہے

بس ایک میزان زرگروں کی

بس ایک پہچان۔۔۔۔ مومیائے ہوئے سروں کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s