١٣ مارچ ۔ (حبیب جالب)

بہت رویا تھا، دھاڑیں مار کر رویا تھا

کل شب آسماں

اور آج بستی کی منڈیروں پر

صفیں باندھے کھڑی ہے دھوپ،

کہتے ہیں کہ وہ شوریدہ سر

پھولوں کی بُکل مار کر گزرے گا اِن چپ چاپ

سڑکوں سے

وہی جو سونت کر شمشیر آوازِ برہنہ کی

اندھیرے سے لڑا چالیس برسوں تک

وہی سچ کا صدا بردار جس نے زندگی کی لہر پر سینہ سپر ہو کر

گواہی دی

ربودِ آب پر مامور پہرے کے مقابل میں

وہی شوریدہ سر

اِس آج کی تاریخ، وسطِ موسمِ گل میں

ہری چادر بدن پر اوڑھ کر

گزرے گا، کہتے ہیں

کہ قبرِ شام پر انبوہ کے انبوہ لوگوں کے

دعا مانگیں گے

اُس کے لوٹ کر دوبارہ آنے کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s