میلہ

تھئیٹر کی کھڑکی پہ بیٹھا ہوا کمپنی کا ملازم

ٹکٹ بیچتا ہے

بھرے ہال میں دن، مہینے، برس بے بدل حالتوں کے

لڑائی کے منظر کی سرشاریوں میں

ولین اور ہیرو کوآپس میں جگہیں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں

قناتوں سے باہر

بڑی رونقیں ہیں

پرانے پھّٹے چیتھڑوں میں بسی بے نیازی سے چمٹا بجاتے ہوئے گا رہا ہے

اُسی قول کے بول جس کو

کئی بار بستی کی چو سر پہ ہارا گیا ہے

قناتوں کے اندر

تماشے کا پنڈال وعدے کے رنگیں غباروں

بیانات کی جھلملاتی ہوئی کترنوں سے

سنوارا گیا ہے

جہاں آتے جاتے تماشائیوں اور خبروں کی مڈبھیڑ میں

ہوش سے ہوش بچھڑا ہوا ہے

بڑی رونقیں ہیں

گلابی ہے شیشہ نشاط آفریں ماڈلوں کی دمک سے

کہیں پر

ظرافت کو سنجیدگی لکھنے والے کی ارزاں نویسی کی

دھومیں مچی ہیں

کہیں پر

سدھائے ہوئے شیرکی ٹیپ کردہ صدا دھاڑتی ہے

کہیں پر

قدامت کے پنجرے میں پالا ہوا طائر سبز

لحنِ مکرر میں نغمہ سرا ہے

انہی رونقوں میں

وہ ہارا ہوا شخص رومان کا سرخ رومال

ماتھے پہ باندھے ہوئے،

کان میں ناشنیدہ سخن کی پھریری رکھے،

بے عصا چل رہا ہے

وہی جس نے سپنوں کے ساون میں آنکھیں گنوا دیں

ہرا ہی ہرا دیکھتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s