مٹی کا بلاوا

میں اُس غم سے مفرور ہو کر

کسی دُور کی کنجِ مستور میں جا بسا تھا

جہاں سیم تن لعبتیں لمس کی قربتوں کے

چھلکتے ہوئے جام ترغیب کی عشرتیں بانٹتی تھیں

جہاں دن کے آنگن میں پھیلی ہوئی جھنڈ کی

جھُنڈ دُھوپیں

بڑی دور تک اُونگھ میں جسم و جاں کو

شرابور رکھتی تھیں بے نام سے شربتی بوجھ

کے ذائقے سے

جہاں انگلیوں پر

گلابی چٹکتی تھی، شیشے کی کنجِ معطر میں عکسوں

کے جھرمٹ

اُترے تھے آنکھوں کے رستے

جہاں ٹمٹماتے ہوئے قمقموں میں

گھری شام کی جھیل پر پھڑ پھڑاتی ہوا، وقفہ وقفہ

صدا۔۔۔۔ گیت بن کر

ہویدا سے مستور تک، دُور تک آتے جاتے

ہوئے موسموں سے

پرے تیسرے رُت میں آوارگی کی کسک، دل

کے پنجرے سے چھوڑے ہوئے طائروں سے

بھرے آسماں کو

بناتی تھی رنگیں

گماں کو

گماں جو۔۔۔۔ ہمیشہ سے عمروں کے دیکھے ہوئے سارے خوابوں سے بھی بے کراں ہو

مگر ایک بے مہر لمحے کے کھائے ہوئے عام سے ایک غم نے

مجھے ایسے بے بس کیا، میری مٹی کے پاؤں سے باندھا

ہُوا بوجھ برتی ہوئی زندگی کا

ہوا سا لگا اور میں اس غنودہ فصا، اُس رہائی

کی جنت کے پردیس سے لوٹ کر آگیا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s