فیصلہ

اِتنی بِھیڑ میں، اتنے گم کردہ سفروں میں

اتنے پھیلاؤ میں، اتنی ظلمت میں

تو کیا معنی ڈھونڈے ہے

پیشانی پر ایک چراغِ چشم دھرے

ارے، ارے!

اندر کے گنجلک عکسوں کو

ڈھلتے وقت کی مدھم کرتی پرچھائیں میں دیکھ ذرا

اور بتا

ہستی کا مفہوم ہے کیا؟

ہم کیا جانیں ہستی کا مفہوم ہے کیا

جو معلوم کی نامعلوم سے دوری ہے

اُس کے بیچ بھٹکتے رہنا دانش کی مجبوری ہے

ہم کیا جانیں ہستی کا مفہوم ہے کیا

ہم تو بس اتنا جانیں

”ہونا” ایک حضوری ہے

جینا شرط ہے جینے کی

عمریں چاہے چھوٹی ہوں یا لمبی ہوں

طے کرنی ہی پڑتی ہیں

اور ہمارے اندر کوئی ہم سے کہتا رہتا ہے

فرق بڑا ہے

سچ کے جینے اور ضرورت کے جینے میں

اک ارادہ۔۔۔۔ اپنے آپ کو بامعنی کر لینے کا

ایک حمایت ۔۔۔۔ دُکھ سہنے والوں کی،

اپنے جیسوں کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s