زمیں زاد

رہ گزر نشیب کی اور سفر فراز کا

دونوں پہ ایک وقت میں

چلنے کا اِذن ہے اُسے

عمروں کا روپ اوڑھ کر

کرتا رہے مسافتیں وادیئ ماہ و سال میں

دُور کے اوجِ کوہ سے

آتی رہے نظر اُسے چادرِ آبِ نیلگوں

سپنے کے آسمان کی،

گرتی ہوئی زمین پر

شوق کی وسعتوں میں وہ بال و پرِ وجود پر

اُڑتا رہے صعود پر

پنجہءِباد گرد سے جانے ہے کیا بندھا ہوا

دیکھیں ذرا قریب سے

دیکھیں کسی حسین کا، کوئی پیام ہی نہ ہو

پھینکا ہوا زمین کا حلقہءِدام ہی نہ ہو

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s