دیوار چاٹنے والے

میں زرِ غم کا لئیم

کسیہءِضبط میں رکھتا ہوں بڑا مال جسے

رات جب آئے تو گِننے بیٹھوں

لب پہ افسوس کی چُپ سادھے ہوئے

لمس کو شانت کروں

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اشکوں کے اُچکّے آکر

میرا کچھ سیم اُٹھا کر لے جائیں

پھر کسی یاد کے پچھواڑے سے

چاندنی ساتھ لئے

چپکے سے در آئے نقب زن کوئی

ایک آسودہ سی بے چارگی کے عالم میں

اپنے دیناروں کی

دُور ہوتی ہوئی جھنکار سنوں

اور آواز کا سہم

بھاگتے شعر کے پیچھے بھاگے

لے گیا کتنے ہی برسوں کی کمائی میری

کوئی روکے اس کو

اور کچھ دیر کے بعد

پہرہءِدنیا سے

خواب اغوا کئے لے آئے اُسے

جس کی اک دید بخیلوں کو سخی کر ڈالے

ضبط کی تاب کہاں

وار دُوں اس پہ زرِ غم سارا

خود سے سرگوشی کروں

میری دولت ہے تہی جیب مری

اور جب اگلی سحر خوابِ مقدر سے اُٹھوں

کیسہءِضبط بھرا ہو غم سے

آستیں بھیگی ہوئی ہو نم سے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s