خریف

شہر ظلمت میں ہے

جس کے ہر راستے میں برہنہ ملے

نیم خفتہ گلی، کنکروں کے بچھونے پہ لیٹے ہوئے

ستر پر میلے پانی کی بد رو لپیٹے ہوئے

ڈیوڑھیاں، تنگ دلان، آلودہءِدود بُودار

باورچی خانوں میں صدیوں سے رہتی ہوئی بیبیاں

مرد سورج کی آنکھوں سے جن کو بچائے رکھے

سقف کا سائباں

شہر ظلمت میں ہے

دل کی سجدہ گہ لامکاں

بے اماں

لحنِ یکساں، مضامینِ تکرار کی گونج سے

خاک نائے مقدس کا منبر نشیں

اپنی دانست میں لفظ کے غیب سے آشنا

اس طرح شرح معنی کرے

چار خانوں میں تقسیم ہوں نیم خفتہ گلی کے مکیں

ایک جیسے جو ہیں ایک جیسے نہیں

نام کا پیرہن

جس کے نزدیک پہچان ہے ابنِ انسان کے اصل کی

پوچھتا ہوں میں خود سے کہ میں

ہوں خزاں کشتِ تاریخ کی کون سی فصل کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s