تمّنا کے مُخبر کی سرگوشی

اگر وہ خونخوار اپنے سرسے نکال سکتا

سڑاند مُردار حافظے کی

اگر وہ اپنی ہوس کی اس عارضی کمائی میں

دیکھ پاتا

زیاں۔۔۔۔ جو ناپاک کرتا رہتا ہے حوض کے تازہ پانیوں کو

اگر وہ جسموں کی اِس کھدائی میں دل کے معدن کا

وہ زرِ خام ڈھونڈ لیتا

جو خلیہ خلیہ بنا ہے پیمائشوں سے باہر کے وقت میں

اور جس پہ ظلمات کے ستارہ جبیں شناور کے

عکس کی جھلملاہٹیں ہیں

تو پھر یہ ابنائے جہل صیہون و سربیا کے

سری نگر پہ جھپٹنے والے سپوت بے چشم کورؤں کے

جنوبِ دنیا کی بستیوں میں

کرائے پر قتل کرنے والے

کبھی نہ ہم جنس روشنی کو ہلاک کرتے

کبھی نہ لاوقت کی کشیدوں سے بننے والے لہو کو

یوں رزقِ خاک کرتے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s