بنچ پر بیٹھے ہوئے

نرودا اور میں بیٹھے ہوئے ہیں

پانچ دریاؤں کے سنگم پر

ہمارے سامنے اپنے بدن کو توڑ کر

باہر نکلتے رقص میں سپنے کی لڑکی ہے

مہکتی شام جس پر مُٹھیاں بھر بھر کے

شانوں سے پھسلتی چاندنی میں، جگنوؤں کا زر لُٹاتی ہے

بڑی خوشبو، نہایت لمس سے بھیگی حِسوں کی بھیڑ ہے

بستی کے میلے میں

جہاں پر

موم سی رنگت کے اُٹھتے شور کے ریشم پہ

انگشتِ شہادت کے قلم سے گیت لکھا جا رہا ہے

رنگ کے بے رنگ ہونے کا

حناؤں کی معطّر تال پر دف کی طرح بجتی ہوئی

ہر کنپٹی میں ایک ہی آواز لرزاں ہے

کہ ہم اہلِ زمیں۔۔۔۔ زنجیر کی مانند پھیلی سرحدوں کو

نسخ کرتے ہیں

معافی چاہتا ہوں

کیا کروں، عادت جو سپنے دیکھنے کی ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s