ایک آنسو، ایک تبسم

مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ

یہ تو وہ ہیں جن کے آگے میں ہمیشہ

نیم سجدے میں رہا

میرے سپنوں کو بنفشی شال کی مانند جو بنُتی رہیں

جس کے لمسِ گرم کو کندھوں سے لپٹائے ہوئے

کاٹ لی ہے میں نے یہ سرما کی لمبی رات جیسی زندگی

جن کی آنکھوں کی تپش اور روشنی سے عمر بھر

میرے صحراؤں میں ہریالی رہی

مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ

یہ تو وہ ہیں

جو جنم کی قیدِ بے میعاد میں جی رہی ہیں بھید اندر بھید خود اپنے لہو کی بے وفائی کی سزا

سہتے ہوئے

برتر و بالا ہو جو چاہو کہو

میں تو رو دوں فاحشہ کو فاحشہ کہتے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s