آ۔۔۔۔ پان کھانے چلیں

جب بگولے کے کژدم کی کاٹی ہوئی رُت نے

تریاق مانگا تو اُس نے کہا

میں مسیحا نہیں

دیکھتے ہو وہ بوڑھا جو سورج کی دستار باندھے ہوئے

ظلمتوں میں رواں ہے اُسے

زید داؤد، نیلامبر اور وہ کتنے وقتوں میں

کتنے مقاموں پہ ملتے رہے

اور شاید کہ اُس کا بتایا ہوا برگِ نایاب

چڑھتی اُترتی خزاں کے گڈریے کی لمبی عصا کے

خمِ تیز کی دسترس میں نہیں

دیکھتے ہو، نہیں دیکھتے ہو کہ فردا کے آئے ہوئے

چاہِ ماضی کی دیوار پر کیسے پیوند ہیں

پِن سے ٹانکی ہوئی تتلیوں کی طرح

دیکھتے ہو، نہیں دیکھتے ہو کہ نی اون سائن سے

ڈھانپے ہوئے کوڑھ کے زخم میں کلبلاتی ہوئی آگ ہے

اورتقسیم کی آنکھ ماتھے پہ رکھے ہوئے

وہ سمجھتا ہے اُس کا بنایا ہوا دھات کا آدمی

معجزہ کر دکھائے گا اِس آگ میں کود کر

بس اِسی وہم میں، آس کی آس پر سب زمانے چلیں

آچلیں، پان کھانے چلیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s