پڑاؤ۔۔۔۔بے سفر مسافروں کا

یہ جوہڑ عضوِ بریدہ ہے اُس دریا کا

جس کے شفاف بہاؤ میں ہر ٹھہرا منظر بہتا تھا

جو گزرا کل کی بستی سے

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے پرچھائیں اپنے گھاؤ کی

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے

کچھ خار و خس’ کچھ ٹوٹے پر’ طائر ایامِگذشتہ کا

ٹہنی کے خمیدہ شانے پر

اس خالی سرد بسیرے میں

اور چھوڑ گیا’ اپنے پیچھے مٹھی میں بند عفونت سی ٹھراؤ کی

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے

مسند پہ کلاہ خود داری کی’ وہ شاہ سوار جو گزرا تھا

اِس رستے سے

جو فرش یہ اوندھی رکھ دی ہے

ان آج کے عزت داروں نے

اب کاسہءِدستِ گدایاں ہے

اور اپنے آپ پہ حیراں ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s